درو دیوار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دروازہ اور دیوار؛ (مجازاً) مکان، جائے سکونت، گھر۔  لوٹ کر عالم صحرا سے جو گھر کو دیکھا اجنبی سے نظر آئے درو دیوار مجھے      ( ١٩٧٩ء، زخمِ ہنر، ٢٤٢ ) ٢ - ہر جگہ، ہر جانب، ہر سمت۔ "درو دیوار سے شکر گزاری کی صدائیں آتی ہیں"      ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ١٩٤:٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکب عطفی ہے۔ فارسی لفظ 'در' اور 'دیوار' کو واؤ عاطفہ سے ملایا گیا ہے۔ اردو میں ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ہر جگہ، ہر جانب، ہر سمت۔ "درو دیوار سے شکر گزاری کی صدائیں آتی ہیں"      ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ١٩٤:٦ )

جنس: مذکر